واشنگٹن :امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان فلپ جے کراوٴلی نے کہاہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں اعتمادکافقدان دورکرنے کیلئے کوششیں جاری ہیں تاہم یہ کام راتوں رات ممکن نہیں ،وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے اپنے حالیہ دور ے کے دورا ن پاکستان کیلئے توانائی ،صحت اورتعلیم سمیت متعدد منصوبوں کا اعلان کیا اورتوقع ہے کہ ا س کے مفیدنتائج برآمد ہوں گے، پاک فوج دہشت گردی کے خلاف موثرکارروائی کررہی ہے ، پاکستانی سرزمین پر اپنے فوجی دستے بھیجنے کاکوئی ارادہ نہیں ، پاک بھارت امن بات چیت ہمارے مفاد میں بھی ہے ،دونوں ملکوں کو مذاکرات کی ترغیب دیتے رہیں گے ، قاہرہ میں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ہونے والی پیشرفت خوش آئند ہے ، سعودی عرب اورشام اسرائیل کے ساتھ دوبارہ براہ راست مذاکرات شروع کرنے کیلئے فلسطین کی حوصلہ افزائی کریں ۔ گزشتہ روزیہاں معمول کی پریس بریفنگ کے د وران اس سوال پرکہ امریکی تحقیقاتی ادارے پیوریسرچ کے حالیہ سروے کے مطابق پاکستانی عوام کی اکثریت امریکہ کواپنادشمن سمجھتی ہے ترجمان نے کہاکہ انہوں نے اس سروے کونہیں دیکھا اور سروے کو دیکھے اوراس کامطالعہ کیے بغیر اس سلسلے میں رواں اورگزشتہ سال کی سروے رپورٹ میں فرق معلوم نہیں کیاجاسکتا۔ترجمان نے کہا کہ وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کے حالیہ اورگزشتہ سال اکتوبر کے دورہ پاکستان کے دوران محسوس کیاگیاتھاکہ ہمارے باہمی تعلقات میں اعتمادکافقدان پایاجاتاہے اورپاکستان میں یہ سمجھاجارہاہے کہ امریکہ اورعالمی برداری انہیں بیس سال پہلے کی طرح پھرچھوڑجائے گی تاہم حالیہ مہینوں میں ہم نے اس اعتماد کے فقدان کودورکرنے کیلئے سخت جدوجہد کی ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کام ایک ہی رات میں نہیں ہوسکتابلکہ اس کے لئے وقت درکار ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ ہم نہ صرف پاکستانی حکومت بلکہ عوام کے ساتھ براہ راست رابطے کرنے کی کوششیں کررہے ہیں تاکہ انہیں بتایاجائے کہ امریکہ پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے پرعزم ہے اوردونوں ممالک کے درمیان شراکت داری قائم ہے تاہم انہوں نے کہاکہ لوگ اس شراکت داری کاثمردیکھناچاہتے ہیں اور ہمیں اس پر حیرانگی نہیں ہونی چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے رواں ماہ دورہ پاکستان کے دوران متعددٹھوس منصوبوں کااعلان کیاہے جن میں توانائی ،صحت اورتعلیم سمیت دیگرمنصوبے شامل ہیں ہمیں امید ہے کہ ان منصوبوں کے مفیدنتائج برآمد ہوں گے ہم سمجھتے ہیں کہ پاک امریکہ طویل المدتی شراکت داری ناگزیر ہے ۔انہوں نے پاکستانی سرزمین پردہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی سے متعلق افغان صدر حامد کرزئی کے مطالبے کومسترد کرتے ہوئے کہاکہ امریکہ کاپاکستان میں اپنے فوجی دستے بھیجنے کاکوئی ارادہ نہیں ہے ۔ہم وہاں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کیلئے پاکستان کے ساتھ مل کرکام کررہے ہیں جونہ صرف افغانستان اور امریکہ بلکہ خود پاکستان کیلئے بھی خطر ہیں ۔انہوں نے کہاکہ صدربارک اوباما کی جانب سے دسمبر2009ء میں دہشت گردی کے خلاف اعلان کردہ حکمت عملی میں یہ مرکزی نکتہ شامل تھاکہ ہمیں پاک افغان سرحد کے دنوں اطراف دہشت گردوں کے خلاف موثرکارروائیاں کرنے کی ضرورت ہے ۔امریکہ اورعالمی برداری اس سلسلے میں پاکستان اور افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرر ہی ہے جبکہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جارحانہ اقدامات اٹھائے ہیں ہمیں پاک فوج کی ان موثرکارروائیوں پر بھروسہ ہے جو اس نے سوات اورجنوبی ویزراست میں کی ہیں اور ہم چا ہتے ہیں یہ کارروائیاں آگے بھی جاری رہیں ۔پاک بھارت مذاکرات سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہاکہ ہم دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان امن مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جوہمارے اپنے مفاد میں بھی ہیں ۔ قاہرہ میں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے متعلق ترجمان نے کہا کہ اس اجلاس میں ہونے والی پیشرفت سے ہمیں حوصلہ ملا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عرب وزرائے خارجہ کی طرف سے اوباما انتظامیہ کو ایک خط موصول ہوا جس میں براہِ راست بات چیت کے بارے ان کے موقف اور ان کی تشویش کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خط کے مندرجات کا جائزہ لیا جائے گا۔ امریکہ ، فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کو بحال کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ مشرق وسطی کے لیے امریکی ایلچی جارج مچل مئی سے فریقین سے باری باری ملتے رہے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ براہ راست بات چیت پر رضامند ہو جائیں۔ فلپ جے کراوٴلی نے سعودی عرب اورشام پر زوردیا کہ وہ فلسطین کی اسرائیل کے ساتھ دوبارہ براہ راست مذاکرات شروع کرنے کی حوصلہ افزائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین اسرائیل براہ راست مذاکرات خطے کے لیے بہترثابت ہوں گے۔دوسری جانب شام کے وزارت خارجہ کے ایک عہدے دارنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا ،سعودی عرب اورشام کے درمیان ہونے والی بات چیت میں مداخلت نہ کرے اوردونوں ملکوں کے معاملات سے دوررہے۔
|